موٹی موٹی کتابیں چند گھنٹوں میں کیسے پڑھیں جو وقت ٹی وی، سوشل میڈیا اور دوستوں کی نظرہوجاتا ہے، اگر وہی وقت کتاب پڑھنےمیں لگ جائے تو اس سےاچھا کام کیا ہوسکتا ہے؟

موٹی موٹی کتابیں — چند گھنٹوں میں

از: کامران زاہد


کئی مہینوں سے دوست احباب اور سوشل میڈیا پر ساتھ چلنے والے یہ سوال پوچھتے آ رہے ہیں کہ آپ پڑھتے کیسے ہیں؟ میں نے ہمیشہ اس سوال سے گریز کیا — اس لیے نہیں کہ جواب نہیں معلوم، بلکہ اس لیے کہ میں خود کو کوئی ماہرِ علم نہیں
سمجھتا۔ مگر جب اصرار حد سے بڑھ جائے تو خاموشی بھی ایک قسم کی بخیلی بن جاتی ہے۔

تو لیجیے — میں بس اتنا بتاتا ہوں کہ میں کیسے پڑھتا ہوں۔ صحیح یا غلط کا فیصلہ آپ خود کریں، اہلِ علم خود کریں۔

مگر “پڑھیں کیسے” سے پہلے چند اور سوال ہیں جو پوچھنے ضروری ہیں — پڑھیں کیوں؟ پڑھیں کیا؟ پڑھیں کب؟ اور پڑھنے کے فائدے اور نقصانات کیا ہیں؟ آئیے ترتیب سے چلتے ہیں۔


پڑھیں کیوں؟

ایک دنیا ہے جو بہت خوش ہے۔ دن بھر واٹس ایپ اور فیس بک، رات بھر ٹی وی ڈرامے اور نائٹ پیکجز۔ ایسے میں آخر کون اپنا “قیمتی وقت برباد” کرے کہ بیٹھ کر کتاب پڑھے؟

میرے خیال میں پڑھنے کے کچھ فوائد ہیں جو سمجھ میں آتے ہیں:

پڑھنے سے آدمی کو اپنے جہل کا پتہ چلتا ہے — کہ وہ کتنا کم جانتا ہے، اور دنیا کتنی آگے نکل چکی ہے۔ یہ احساس تکلیف دہ ضرور ہے مگر ضروری ہے۔

پڑھنے سے ایک بنیاد ملتی ہے — جس پر کھڑے ہوکر کچھ بنایا جا سکے۔ بغیر بنیاد کے عمارت نہیں بنتی، بغیر علم کے سوچ نہیں بنتی۔

پڑھنے سے دماغی اور تخلیقی صلاحیتیں جلا پاتی ہیں — آدمی کے اندر جو چراغ بجھا پڑا ہوتا ہے، کتاب اسے روشن کرتی ہے۔

پڑھنے سے ہمت ملتی ہے — جب آپ پڑھتے ہیں کہ دنیا نے کیا کیا کارنامے انجام دیے ہیں، تو دل میں یہ یقین پیدا ہوتا ہے کہ میں بھی کر سکتا ہوں۔

پڑھنے سے برداشت بڑھتی ہے — مختلف سوچ اور مختلف عقائد رکھنے والوں کو پڑھنے سے ذہن میں وسعت آتی ہے۔ اختلافِ رائے ایک علمی نعمت ہے، مگر یہ نعمت صرف انہیں ملتی ہے جو پڑھتے ہیں۔

پڑھنے سے وقت بچتا ہے — وہ تمام وقت جو ٹی وی ڈراموں، بے مقصد اسکرولنگ اور لایعنی گفتگو کی نذر ہوجاتا ہے، پڑھنے میں لگ جائے تو اس سے بہتر کوئی سودا نہیں۔

پڑھنے سے جستجو بڑھتی ہے — ایک سوال دس سوال جنتا ہے، اور یہ سلسلہ آدمی کو زندہ رکھتا ہے۔

اور سب سے اہم — پڑھنے سے بندے اور رب کے درمیان تعلق مضبوط ہوتا ہے۔ جس رب نے اپنی کتاب کا آغاز “اِقرَأ” سے کیا — پڑھ — وہ علم کو عبادت سمجھتا ہے۔


پڑھیں کیا؟

نوبل انعام یافتگان کو پڑھیں

اگر پڑھنے کی عادت ابھی نئی ہے تو شروع میں کچھ بھی پڑھیں — بس پڑھیں۔ آن لائن بلاگز، فیس بک پوسٹس، اور SMS یہاں شمار نہیں ہوتے۔

اردو ادب سے شروع کریں تو ابنِ صفی، ممتاز مفتی، بانو قدسیہ، قدرت اللہ شہاب، اشفاق احمد، مستنصر حسین تارڑ، سعادت حسن منٹو، قرۃ العین حیدر — یہ نام ہیں جنہوں نے اردو نثر کو زندہ رکھا۔ دینی ذوق ہو تو مولانا منظور نعمانی اور سید سلیمان ندوی رحمہ اللہ جیسی آسان اور گہری زبان مشکل ہی سے ملے گی۔ شاعری کا شوق ہو تو پروین شاکر اور ناصر کاظمی سے آغاز کریں، حافظ و رومی سے گزریں اور غالب و علامہ اقبال پر سانس لیں۔

کسی مخصوص شعبے میں جانا ہو تو اس فیلڈ کے بانیوں کو پڑھیں — وہ چند لوگ جنہوں نے بنیاد رکھی، جن کا نام ہر کتاب میں آتا ہے۔ Genetic Algorithm کا ذکر John Holland کے بغیر ادھورا ہے، Artificial Intelligence میں Marvin Minsky سرِفہرست، Physics میں Einstein اور Hawking، Computer Science میں Alan Turing اور John von Neumann — یہ وہ لوگ ہیں جن کے کام کو سمجھے بغیر کوئی فیلڈ نہیں سمجھی جا سکتی۔

ذرا سوچیں — کسی نے اپنی زندگی کے چالیس پچاس سال ایک مضمون کو دیے، پھر ایک کتاب لکھی جو آپ کو چند سو روپے میں یا انٹرنیٹ پر مفت مل رہی ہے — اور آپ اسے چھوڑ کر فیس بک پر بحث میں الجھے ہوئے ہیں؟ یہ کہاں کی دانش مندی ہے؟

پڑھائی سے دوری فراست سے محروم کر دیتی ہے۔ آدمی کے تصورات تک یتیم ہوجاتے ہیں اور عقائد بھیک میں ملنے لگتے ہیں۔

ہمت کیجیے — فیلڈ کا انتخاب کیجیے اور دے دیں زندگی کے بیس تیس سال پڑھنے کو۔ دنیا خود بخود آپ کے قدموں میں آجائے گی۔

 

 

 

 


پڑھیں کب؟

ہر وقت پڑھیں۔

ایک عام آدمی اپنی زندگی کے اوسطاً سات سال انتظار میں گزارتا ہے — بس اسٹاپ پر، ڈاکٹر کے انتظار میں، بچوں کی چھٹی کے انتظار میں، سفر میں۔ اگر ان لمحات میں بھی کتاب ہاتھ میں ہو تو آپ باقی دنیا سے سات سال آگے ہیں — اور یہ سات سال مفت میں ملے ہیں۔

چاہیں تو ایک وقت مقرر کریں — رات نو سے گیارہ، یا صبح فجر کے بعد — اور اس پر جمے رہیں۔


پڑھیں کس سے؟

کتابوں سے۔ آن لائن کورسز سے۔

اچھے استاد آج کل نایاب ہیں — جو ملیں انہیں غنیمت سمجھیں۔ مگر یاد رہے — پڑھنا آپ کی ذاتی ذمہ داری ہے۔
جیسے آپ اپنی صحت کی ذمہ داری خود لیتے ہیں، اپنے کھانے سونے کا خیال خود رکھتے ہیں — علم بھی ایسا ہی ہے۔

ماں باپ، استاد اور حالات پر الزام دھرنے کا دور ختم کریں۔ علم کی تلاش آپ کا اپنا فرض ہے۔


پڑھیں کیسے؟

اب آتے ہیں اصل سوال کی طرف — اور اس کا جواب سب سے آسان بھی ہے اور سب سے مشکل بھی۔

بچپن میں میں نے اپنے استاد مولانا عبدالرحمٰن صاحب سے پوچھا کہ میری یادداشت کیسے تیز ہو؟ میں سمجھتا تھا وہ کوئی دماغی ورزش یا بادام کھانے کا مشورہ دیں گے۔ انہوں نے کہا: “آنکھوں کی حفاظت کرو۔”

میں حیران ہوا۔ پھر سمجھا۔

علم کی آنرشپ اللہ کے پاس ہے — جب چاہے، جسے چاہے، جتنا چاہے دے۔ مگر وہ گندی پلیٹ میں کھانا نہیں ڈالتا۔ اگر دماغ میں فلموں کے گانے اور بے ہودہ مناظر کا شور ہے تو کتاب کے الفاظ ملیں گے، علم نہیں ملے گا۔ کتابیں بہت باحیا ہوتی ہیں — بدنظروں سے اپنا آپ چھپا لیتی ہیں۔

پڑھنے کے لیے چند عملی اصول:

وقت مقرر کریں۔ خواہ پندرہ منٹ ہی کیوں نہ ہوں — مگر وہ وقت صرف کتاب کا ہو۔ نہ موبائل، نہ ٹی وی، نہ دروازہ۔ آہستہ آہستہ دورانیہ بڑھتا جائے گا۔

صفحات کا ہدف بنائیں۔ روزانہ کم از کم سو صفحات — چاہے بارش ہو یا عید۔ ایک مسلمان اگر مہینے کے تین ہزار صفحات بھی نہ پڑھ سکے تو یہ سوچنے کی بات ہے۔ ایک مصروف انسان بھی آرام سے چار سے چھ سو صفحات روزانہ پڑھ سکتا ہے — صرف چار گھنٹے درکار ہیں، اور دن میں بیس گھنٹے پھر بھی بچتے ہیں۔

ایک ساتھ کئی کتابیں رکھیں۔ طبیعت اکتا جائے تو موضوع بدل لیں — شاعری، تاریخ، سائنس، دین — مگر صفحات کا ہدف نہ بدلیں۔

ماحول سازگار بنائیں۔ کوئی کونہ، کوئی کمرہ، جہاں کوئی نہ پہنچ سکے۔ موبائل بند کریں، دنیا سے بے نیاز ہوجائیں۔ میں ہر کتاب شروع کرتے وقت اللہ سے دعا مانگتا ہوں: “یا اللہ، عزرائیل علیہ السلام کو ابھی نہ بھیجنا — کتاب ادھوری رہی تو چین سے مر بھی نہیں سکوں گا۔”


وقفہ لیں

انسانی توجہ کا دورانیہ تقریباً پینتالیس منٹ ہے۔ اس کے بعد آنکھیں بند کریں، دس منٹ کا وقفہ لیں — دماغ اس وقفے میں پڑھی ہوئی معلومات کو ترتیب دیتا ہے۔ پڑھائی کے بعد تھوڑی نیند بھی ایک آزمودہ طریقہ ہے — یادداشت پختہ ہوتی ہے۔ اور اگر بھول بھی جائیں تو فکر نہ کریں — جب ضرورت پڑے گی، لاشعور سے نکل کر سامنے آجائے گا۔


نوٹس لیں

اہم جملوں کو انڈر لائن کریں۔

ہر باب کے آخر میں اپنے الفاظ میں خلاصہ لکھیں — ایسے جیسے کسی ان پڑھ دوست کو سمجھانا ہو۔

اگر یہ کر سکتے ہیں تو سمجھیں کتاب آپ کی ہوگئی۔

اگر نہیں کر سکتے تو دوبارہ پڑھیں — یہ صلاحیت دھیرے دھیرے نکھرتی ہے۔


تیز رفتاری سے پڑھیں

جب ایک ہی موضوع کی کئی کتابیں پڑھ لیں تو آپ کو احساس ہوگا کہ مختلف مصنفین نے ایک ہی بات مختلف انداز میں کہی ہے۔ جانی پہچانی مثال نظر آئے، جانا پہچانا گراف دکھے — صفحہ پلٹ دیں۔ یہ صلاحیت خود بخود آتی ہے — جیسے حفظ کی ہوئی سورتیں پڑھنے کی رفتار باقی سورتوں سے زیادہ ہوتی ہے۔

ایک اوسط انسان ایک سو بیس الفاظ فی منٹ پڑھتا ہے۔ تھوڑی مشق سے یہ رفتار چار سو الفاظ فی منٹ تک پہنچائی جا سکتی ہے۔ ایک عام نان فکشن کتاب دو سو سے ڈھائی سو صفحات کی ہوتی ہے — یعنی چار سو الفاظ فی منٹ کی رفتار پر آپ یہ کتاب دو گھنٹوں میں ختم کر سکتے ہیں۔ میں نے مشق کرکے اپنی رفتار آٹھ سو پچاس الفاظ فی منٹ تک پہنچائی ہے۔ آپ محنت کریں اور آگے نکل جائیں۔

اسپیڈ ریڈنگ سیکھنی ہو تو Abby Marks اور Pam Mullan کی کتابیں دیکھیں، یا Richard Sutz کی “Speed Reading for Dummies” پڑھ ڈالیں — یہ انٹرنیٹ پر مفت دستیاب ہیں۔


پہلا اور آخری باب پہلے پڑھیں

کتاب شروع کرنے سے پہلے تعارف اور اختتام پڑھ لیں۔ اس سے آپ کا ذہن مصنف کی سوچ کا نقشہ پہلے سے بنا لے گا اور درمیانی ابواب سمجھنا آسان ہوجائے گا۔ ہاں — فکشن میں یہ غلطی نہ کریں، ورنہ سارا مزہ کرکرا ہوجائے گا۔


مصنف کو پہچانیں

کتاب پڑھنے سے پہلے مصنف کے بارے میں کچھ پڑھ لیں — کہاں پلا بڑھا، کہاں تعلیم حاصل کی، کس دور میں لکھا، کس ماحول سے آیا۔ اس سے تحریر سمجھنا آسان ہوتا ہے اور مصنف کے ممکنہ تعصبات کا بھی اندازہ ہوجاتا ہے۔


پڑھنے کو ترجیح بنائیں

فرض کر لیں کہ پڑھنا زندگی کا سب سے اہم کام ہے۔ جاب کا وقفہ ہے، فیملی کا وقفہ ہے، نماز کا وقفہ ہے، کھانے سونے کا وقفہ ہے — مگر اصل کام پڑھنا ہے۔ ہر وقفے میں خیال پڑھنے کا رہے — اس سے کام آسان ہوجاتا ہے۔


پڑھنے کے نقصانات

جی ہاں — پڑھنے کے نقصانات بھی ہیں، اور کافی سنگین ہیں۔

پہلا نقصان یہ کہ آدمی کو چپ لگ جاتی ہے۔ بولے تو کس سے بولے؟ کوّوں کی کائیں کائیں میں کوئل کی کوک کون سنے گا؟ کوئی پرندہ یا بلی پال لیں — تنہائی کا ڈپریشن کم ہوجاتا ہے۔

دوسرا نقصان یہ کہ دوست کم ہوجائیں گے۔ آپ کی باتوں سے کسی کو اتفاق نہیں ہوگا — اور اختلاف کی دلیل لانا انہوں نے سیکھا ہی نہیں۔ کتابوں کو دوست بنا لیں، وہ کبھی بے وفا نہیں ہوتیں۔

تیسرا نقصان یہ کہ لوگ طعنے دیں گے، بہتان لگائیں گے — آپ کا مسلک اور فرقہ اس رفتار سے بدلیں گے جیسے کپڑے بدل رہے ہوں۔ فکر نہ کریں — یہ علم کی زکوٰة ہے۔ نکلتی رہنی چاہیے۔

اور سب سے بڑا نقصان یہ کہ آپ کو اپنے جہل کا پتہ چلے گا۔ آپ جان جائیں گے کہ کتنا کچھ ہے جو ابھی سیکھنا باقی ہے۔

یہی تو اصل علم کی شروعات ہے۔


:واصف علی واصف کے اس شعر پر بات ختم کرتا ہوں


— Kamran Zahid, CEO, Purposelee


 

Related Articles

Responses