.عمران خان کی جوانی اور ہمارے کرنے کا کام


عمران خان کی جوانی اور ہمارے کرنے کا کام

از: کامران زاہد


یہ شخص کبھی نوجوان تھا۔ آج عمر رسیدہ ہے۔ دیکھتے دیکھتے کہاں سے کہاں پہنچ گیا۔

اچھے برے کی بحث اپنی جگہ — مگر اس تصویر کو دیکھ کر ایک سوال ذہن میں آتا ہے جو مجھے چین نہیں لینے دیتا۔


سوال

ہم میں سے جو آج نوجوان ہیں — وہ اپنی جوانی کے ساتھ کیا کر رہے ہیں؟

وقت گزر رہا ہے۔ خاموشی سے، بے رحمی سے۔ جوانی ایک بار آتی ہے — اور ایک بار جاتی ہے۔ واپس نہیں آتی۔


مسئلہ

:ہم میں سے اکثر نوجوان تین بڑی غلطیوں میں پھنسے ہوئے ہیں

پہلی غلطی — بے سمتی۔

مصروف ہیں مگر کسی واضح سمت کے بغیر۔ دن گزر رہے ہیں، سال گزر رہے ہیں — مگر کچھ بن نہیں رہا، کچھ بدل نہیں رہا۔ گھڑی چل رہی ہے مگر سمت نما غائب ہے۔ 

  دوسری غلطی — تنگ نظری۔

صرف اپنے اور اپنے خاندان کے فائدے کی سوچ۔ ملک، امت، معاشرہ — یہ کسی اور کا کام ہے۔ یہ سوچ نہ صرف غلط ہے بلکہ خطرناک بھی ہے۔ جو شخص صرف اپنے لیے جیتا ہے وہ دراصل بہت چھوٹی زندگی     جیتا ہے۔

تیسری غلطی — غیر فعالیت۔

مسائل پر بات بہت ہے، حل کی طرف قدم نہیں۔ شکایت آسان ہے، ذمہ داری مشکل ہے۔ مگر یاد رکھیں 

اگر آپ حل کا حصہ نہیں ہیں تو آپ مسئلے کا حصہ ضرور ہیں۔ درمیان کی کوئی جگہ نہیں ہوتی۔


حل — ابھی کرنے کے کام

:یہ کوئی فلسفہ نہیں، یہ عملی قدم ہیں جو آج سے شروع کیے جا سکتے ہیں

کتابیں پڑھیں۔ علم کے بغیر سمت نہیں بنتی۔ جو پڑھتا نہیں وہ دنیا کو دوسروں کی آنکھوں سے دیکھتا ہے — اپنی آنکھیں کھولیں۔

اساتذہ سے ملیں۔ جن لوگوں نے وہ راستہ طے کیا ہے جو آپ طے کرنا چاہتے ہیں — ان سے ملیں، ان سے سیکھیں، ان کا وقت مانگیں۔ اچھے استاد کی ایک گفتگو برسوں کی بھٹکن ختم کر سکتی ہے۔

سیکھیں اور سکھائیں۔ جو سیکھا ہے اسے آگے بڑھائیں۔ علم جب بانٹا جاتا ہے تو بڑھتا ہے، سمیٹا جائے تو مر جاتا ہے۔

لکھیں۔ اپنے خیالات کو لکھنے کی عادت ڈالیں۔ لکھنا سوچ کو صاف کرتا ہے، سوچ کو مضبوط کرتا ہے۔

زندگی کا ویژن بنائیں۔ یہ کوئی پیدائشی صلاحیت نہیں — یہ سیکھی جاتی ہے۔ اگر نہیں آتا تو سیکھ لیں۔ بغیر ویژن کے زندگی ہوا کے رخ پر چلتی رہتی ہے۔

ترجیحات طے کریں۔ ہر چیز اہم نہیں ہوتی۔ طے کریں کہ آپ کی زندگی میں کیا سب سے زیادہ اہم ہے — پھر اسی پر اپنی توانائی لگائیں۔

اور پھر جت جائیں۔ فیصلہ کر لینے کے بعد پیچھے مڑ کر نہ دیکھیں۔ مسلسل، صبر کے ساتھ، یقین کے ساتھ۔


“سٹیفن کووی نے کہا تھا: “سمت نما کے ساتھ گزاری زندگی، گھڑی کے ساتھ گزاری زندگی سے بہتر ہے۔

مصروف رہنا کافی نہیں۔ سمت درست ہونی چاہیے۔


اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو۔

Related Articles

موٹی موٹی کتابیں چند گھنٹوں میں کیسے پڑھیں جو وقت ٹی وی، سوشل میڈیا اور دوستوں کی نظرہوجاتا ہے، اگر وہی وقت کتاب پڑھنےمیں لگ جائے تو اس سےاچھا کام کیا ہوسکتا ہے؟

موٹی موٹی کتابیں — چند گھنٹوں میں از: کامران زاہد کئی مہینوں سے دوست احباب اور سوشل میڈیا پر ساتھ چلنے والے یہ سوال پوچھتے…

Responses